''Spirit Of the Love''

Poet: Khalid Saleem By: Khalid Saleem, Multan

Mere Dil Ki Hasi'n
Sahilon Ki Hwa
Jb K Shabnam Bani
Aur Barasny Lgi
Ta Ba Hadd-E-Nigah
Jo B Estada Thy
Khushk-O-Be Aab Sb
Dasht K Silsily
Sb Roida Huwe
Narm Sabzey Se Ye Lehlahaney Lagey
Usi Dasht-E-Junoo'n Me
Ubharney Lagey
Zindagi K Niasha'n
Murdani C Falak Pe Jo Thi Char Soo
Abr-O-Barsat K Sath Sab Dhul Gai
Bujhti Shamme'n Diye Phir Se Jalney Lagey
Sub'h-E-Nau Ki Nasim-E-Khunak Jab Chali
Phool
Kalya'n
Nazarey Mehakney Lagey
Khushbu'on Ki Nayi Ik Kahani Chali
Is Kahani Ka Aaghaz Tm Se Huwa
Is Kahani Ka Mehwar-O-Markaz Tmhi
Is Ka Deebacha-O-Harf-E-Akhir Talak
Sb Hi Teri Muhabbat Se Mansoob Hen
Phool
Jharney
Parindey
Sabhi Rang-O-Boo
Jitney Kirdar Hen Is Kahani Me Gum
Sb Hi Tere Takhhayyul Se Ma'moor Hen
Is Ka Anjam Bs Ab Tere Hath He
Tum Jo Chaho To Sb Pyar K
Zabtey
Rabtey
Marhaley
Umar Bhar Be Ta'attul Hi Chaltey Rahen
Warna Aye Ham Nawa
Yad Rkhna Sada
Hum Usi Dasht-E-Hijra'n Me Kho Jaen Ge
Jis Se Teri Nazar Ne Nikala Hamen...
 

Rate it:
Views: 882
21 May, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL