آسمانِ سخن پر ہیں درخشاں اصنافِ سخن چار سو پر
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
دلِ پرنور میں جلی شمع ہدائیت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
پھر اندھیر سے کیا ڈر عنائیت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
عشقِ مصطفٰیؐ میں بجا دو ہر طرف عظمتِ مصطفٰیؐ کے ترانے
اہلِ دنیا سے کیا ڈر کائنات جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
مٹا دو کفر کو ،لہرا دو ہر طرف دینِ مصطفٰیؐ کے علم
جہانِ توحید ہے ہمارا نسبت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
آسمانِ سخن پر ہیں درخشاں اصنافِ سخن چار سو پر
ماند ہیں سب، جلوہ افروز نعت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
افقِ ایمان پر جھومتا ہے جہاں پی کر جامِ عشقِ مصطفٰیؐ
دلِ عاشقاں سے بیان مدحت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
فلکِ شفاعت پر ہیں تاباں رحمتِ مصطفٰیؐ کےستارے
پھر محشر سے کیا ڈر ،شفاعت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
دربارِ مصطفٰیؐ میں ہو بیاں چشمِ تر سے توبہ تو ،حضوری
پھر نارِ جہنم سے کیا ڈر، جنت جب پیارے مصطفٰیؐ کی ہو
صلی اللہ علیہ وسلم
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






