آنکھوں سے دریا
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiاب جو بچھڑا تو خود کو سزا دوں گا میں
اپنی آنکھوں سے دریا بہا دوں گا میں
اب جو ٹوٹا کوئی خواب میرا اگر
اپنی آنکھوں کو ایسی سزا دوں گا میں
ایک ہی تو ملا ہے مجھے دوست یاں
اب کیا اس کو بھی گنوا دوں گا میں
میرے دل میں کہیں پر دھڑکتا تو ہے
آ کسی روز تجھ کو سنا دوں گا میں
اب بھی آیا نہ میرے بلانے سے تو
یاد رکھنا کے تجھ کو بھلا دوں گا میں
چھوڑ اس بات کو تو نے کیا کیا تھا آ
اپنے سینے سے تجھ کو لگا لوں گا میں
گر دیا دھوکہ مجھ کو تو سن لے تو بھی
راز تیرے ہیں جتنے بتا دوں گا میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






