سکوت مرگ ہے ظاری تمام پھولوں پر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجفا کا ذکر کریں تو سزا نہیں دیں گے
ہیں دل شکستہ سبھی ہم رجا نہیں دیں گے
سکوت مرگ ہے ظاری تمام پھولوں پر
بلا کے حبس میں مہکی ہوا نہیں دیں گے
جنوں میں چاک گریباں تو مست و بے خود ہیں
جو حق پہ چاک ہوئی اس قبا نہیں دیں گے
سکون دل کے لیے بے اثر تھی ہر کاوش
امیر شہر یہ تیری کہیں خطا نہیں دیں گے
مرے خیالوں میں پھر جلترنگ بجتی ہے
وہ آدھی رات کو جب بھی صدا نہیں دیں گے
جہاں برسنا ہے اس نے وہیں پہ برسے گی
لبوں کی پیاس بجھانے گھٹا نہیں دیں گے
ہر ایک ملک میں جنگ و جدل کی باتیں ہیں
فنا کے دور میں وشمہ بقا نہیں دیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






