اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
Poet: غلام عباس ساغر By: غلام عباس ساغر, Londonسرد ہوائیں چل پری اشقو ں نے طوفان مچایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
کتابوں میں رکھے پھول پھر سے مہک اٹھے
رُخ تیرا ہی ہر آئینے میں سمایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
خط خیال ،یاد اور یہ انتظار کب تک
اے بے رحم کیوں اتنا مجھے ستایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
پتوں کی آہٹ بھی چبھتی ہے دل کو
موسم کو کس نے رستہ میرے گھر کا دکھایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
زندہ ہوں تو بس تیری ہی امید پر ساغر ؔ
دل میں فقط تجھے ہی بسایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






