آہٹ نے ہی دیا ہے جھٹکا عذاب کا
Poet: غلام عباس ساغر By: غلام عباس ساغر, Londonپاؤ سے ہی ہے عیاں حسن جناب کا
رُخ تو ہو گا کوئی شیریں جام شراب کا ؟
لگتا ہے کسی وادی ِ زنجیل کے باسی ہیں
چرچا ایسے تو نہیں عام اُنکے شباب کا
زلف آنکھ چہرے ہنسی کی کیا بات کرتا
آہٹ نے ہی دیا ہے جھٹکا عذاب کا
وہ سامنے نہیں میں سوچ تو سکتا ہوں
وہی ہیں حرفِ آخر حسن کے نصاب کا
آواز سن کر ہی ساغر تو آخر پگل گیا
دیکھ لیتا تو بول جاتا عشر کے حساب کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






