!!!اس سے مراسم هوۓ فسانے کی طرح

Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد

اس سے مراسم ہوۓ فسانے کی طرح
قصہ جیسے کسی دور پرانے کی طرح

وہ میرا تھا میرا تھا کبھی یوں
متاع ء جاں کسی خزانے کی طرح

رو برو بھی رہا میرے وہ سدا
قربتوں میں بھی مجھے گنوانے کی طرح

اس سے فرقت بھی گوارہ تھی مجھے کب
روٹھنا بھی اس سے تھا منانے کی طرح

ہم نے لبادہ بھلانے کا چڑھا رکھا ہے
خود کو خود ہی آزمانے کی طرح

امکان ء تجدید ء وفا سنبھالے ہیں ابھی
خواب جیسے کسی مفلس کے سجانے کی طرح

حال لوگوں کی وفاؤں کا نہ پوچھو ہم سے
لکھتے ہیں محبت بھی مٹانے کی طرح

جرم ء محبت کی سزا بھی عجب تھی
ترک ء تعلق بھی رہا اس سے نبھانے کی طرح

آؤ آج کریں مل کے پھر تجدید ء وفا
بجھتے ہوۓ چراغوں کو جلانے کی طرح

دل چاہتا ہے کسی روز کہ عنبر
ہم بھی ہو جائیں زمانے کی طرح

Rate it:
Views: 466
05 Apr, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL