نہیں نہیں

Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujrat

میری محبت میں اثر نہیں یا واقعی سنگ دل ہو تم
ولیِ خدا نہیں تو ، مگر جتنا ہوں منافق بھی نہیں

میرا سکون چھین کر ناراختی میں تم بھی ہو
میں جو ہوں شاید وہ نہیں ہوں مگر کافر بھی نہیں

ٹوٹے گی چوڑیاں تیرے ہاتھ سے یہ تو ہونا ہی ہے
بَازگَشت امید کیا میں شرم سار نہیں نہیں میں تو نہیں

کِس غم کی مراقبت کروں کسے اسی کے حال پہ چھوڑوں
سبھی میرے ہیں، سنگ دل نہیں میں تو نہیں

ڈر سا لگتا ہے ان لفظوں سے جو لکھے تھے تیرے ہجر میں
پڑھو گے برا مناٶ گے, چلو مَنا لو برا پرواہ نہیں مجھے بھی نہیں

ہوئے ہو جو مجھ سے طرقِ تعلق اس میں ھرج کیسا
تم ہو لجبازان تو کیا ارے فرشتہ میں بھی نہیں

میرے گھر کی دیواریں پہلے سی نہیں رہی اب
ہاں ہاں مگر یہ بستی پرانی ہے پہلے سا کچھ بھی تو نہیں

گوش کن کبھی دل نے چاہا آسکتے ہو بے پَردہ دَر مقابل مَن
تو میرا میں تیرا بدن دیکھ چکا ہوں، اب پردہ نہیں نہیں

جَلا لو مجھ کو رولا لو مجھ کو مگر به یاد داشته باشید
خوش ہو نفیس تو کیا ملال مجھ کو زندہ قبر کا، نہیں مجھے تو نہیں ۔
 

Rate it:
Views: 644
07 Jan, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL