نہیں نہیں
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratمیری محبت میں اثر نہیں یا واقعی سنگ دل ہو تم
ولیِ خدا نہیں تو ، مگر جتنا ہوں منافق بھی نہیں
میرا سکون چھین کر ناراختی میں تم بھی ہو
میں جو ہوں شاید وہ نہیں ہوں مگر کافر بھی نہیں
ٹوٹے گی چوڑیاں تیرے ہاتھ سے یہ تو ہونا ہی ہے
بَازگَشت امید کیا میں شرم سار نہیں نہیں میں تو نہیں
کِس غم کی مراقبت کروں کسے اسی کے حال پہ چھوڑوں
سبھی میرے ہیں، سنگ دل نہیں میں تو نہیں
ڈر سا لگتا ہے ان لفظوں سے جو لکھے تھے تیرے ہجر میں
پڑھو گے برا مناٶ گے, چلو مَنا لو برا پرواہ نہیں مجھے بھی نہیں
ہوئے ہو جو مجھ سے طرقِ تعلق اس میں ھرج کیسا
تم ہو لجبازان تو کیا ارے فرشتہ میں بھی نہیں
میرے گھر کی دیواریں پہلے سی نہیں رہی اب
ہاں ہاں مگر یہ بستی پرانی ہے پہلے سا کچھ بھی تو نہیں
گوش کن کبھی دل نے چاہا آسکتے ہو بے پَردہ دَر مقابل مَن
تو میرا میں تیرا بدن دیکھ چکا ہوں، اب پردہ نہیں نہیں
جَلا لو مجھ کو رولا لو مجھ کو مگر به یاد داشته باشید
خوش ہو نفیس تو کیا ملال مجھ کو زندہ قبر کا، نہیں مجھے تو نہیں ۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






