میری داستاں ہے جو بےنشاں

Poet: habib ur rehman By: habib ur rehman , chakwal

میری داستاں ہے جو بےنشاں
نہیں عشق کی ہے یہ انتہا

کہ میں زندہ ہوں اک آس پر
نہیں یہ جفاؤں کی انتہا

میرے دل میں رہ اک کمی گئی
کہ وہ پوریی ہو ہے یہ اانتہا

لب یار میں رہی نہ سکت
طوفان شور کی ہے یہ انتہا

سبب اس کے قریب اجل میں ہوں
بے وفائی کی ہے یہ انتہا

نظر آدم نے کیا ہے یہ اخذ
میرے عزر کی ہے یہ انتہا

ہوا آشنا ہوں ابھی دور سے
ہے یہ نا آشنائ کی انتہا

کہ بہانے اس کہ ہزار ہیں
میرے مرنے کی ہے یہ انتہا

شوق دیدار جو سبب معراج بنا
محبتوں کی ہوئ ہے یہ انتہا

جو تھے فاصلے سب ہی سمٹ گۓ
رکے جبرائل ہے یہ انتہا

دیا تحفہ کتنا وہ دل نشیں
نہ سمٹ سکا ہے یہ انتہا

کہ مثال زمانہ وہ بن گئی
وفاوں کی ہوئ ہے یہ انتہا

حبیب تو بھی پیدا مثال کر
جو محبت ہے کی انتہا کی کر

کہ زمانہ کرتا رہے یہ ورد
ہے یہ انتہا،ہے یہ انتہا

Rate it:
Views: 466
09 Jul, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL