بڑی ہی سخت مشکل میں یہ جاں ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا بڑی ہی سخت مشکل میں یہ جاں ہے
سکون و چین میں یہ دل کہاں ہے
ہمیں اب ہر گھڑی لگتا ہے ایسا
ہماری زندگانی رائگاں ہے
جہاں رہتے ہیں یہ دنیا ہے فانی
ہماری اصل دنیا تو وہاں ہے
یہیں پر چھوڑ کر جانا ہے سب کچھ
تو پھر کس بات کا ہم کو گماں ہے
چلے ہیں ڈھونڈنے ہم ایسی منزل
نہیں جس کا کوئی نام و نشاں ہے
جسے کہتے ہیں سب میدانِ محشر
وہی تو سب سے مشکل امتحاں ہے
خدا کی راہ میں جس نے دیے سر
سنو وشمہ وہ قومِ مسلِماں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






