بہار میں بھی خزاں ملی ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiبہار میں بھی خزاں ملی ہے
یہاں ملی ہے وہاں ملی ہے
ملا غمِ ہجر وصل میں بھی
وفا یہ ہم کو کہاں ملی ہے
خرید لیتے وہاں سے کچھ ہم
ہمیں تو خالی دکاں ملی ہے
میں اس لیے آیا ہوں یہاں پر
ادھر مری جانِ جاں ملی ہے
میں بے وفا تو نہیں ہوں لیکن
مہ جبیں وہ کہاں ملی ہے
سکون ملتا نہیں کہیں پر
کہ شہر اپنے اماں ملی ہے
چلو خدا کی کریں عبادت
عشاء کی اب اذاں ملی ہے
نصیب میرے برے نہیں ہیں
حسین لڑکی جواں ملی ہے
ملا ہوں دو سال بعد ان کو
دعائیں کرتی اماں ملی ہے
خرید لی ہے گھڑی تو مہنگی
خلوص سے ارزاں ملی ہے
نہیں ہے شہراد کوئی ساجن
مجھے محبت کہاں ملی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






