ملے ہیں درد فقط الفتیں بڑھانے سے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiملے ہیں درد فقط الفتیں بڑھانے سے
شبِ وصال نہ آئی دیے جلانے سے
مرا بھی یار اگر ہوتا حال دل سنتا
یہ کرب ختم ہو جاتا یوں غم سنانے سے
یہ کہتے ہوئے گیا توڑ کر سبھی تانے
کبھی تو کال نہ کرنا مجھے بہانے سے
نہ دیکھ ایسے حقارت سے میں نہیں کم ظرف
مر ا نہیں ہے تعلق برے گھرانے سے
بہار آئی تو گلشن میں پھول کھلنے لگے
ثواب کتنا ہوا اک شجر لگانے سے
تمھارا بن کے رہوں گا رہو گے ساتھ اگر
چلا گیا تو نہ آؤں گا پھر بلانے سے
کرو گے عشق تو الزام آئے گا شہزاد
یہ راز چھپتا نہیں ہے کبھی چھپانے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






