“تمہاری گفتگو اک شاعری محسوس ہوتی ہے“
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillخلاؤں میں معلق زندگی محسوس ہوتی ہے
مجھے ہر موڑ پر تیری کمی محسوس ہوتی ہے
دئے کچھ رنج ہی ایسے تمہاری بیوفائی نے
کہ اب تو مسکراہٹ برہمی محسوس ہوتی ہے
اجل سے کیا ڈراتے ہو ،شناسائی کی باتیں ہیں
مجھے یہ ہجر کی پہلی گھڑی محسوس ہوتی ہے
میں اکثر جان جاتا ہوں تمہاری ان کہی باتیں
تری پلکوں پہ تھوڑی سی نمی محسوس ہوتی ہے
گلوں کی تتلیوں سے رنگ سے خوشبو سے شبنم سے
شکائت بے رخی کی دائمی محسوس ہوتی ہے
مری جاں جب بھی آتی ہو تبسم خیز لمحوں میں
یہ دھڑکن دل کی تیری چاپ سی محسوس ہوتی ہے
وہی خوش فہمیاں قائم ہیں میری آپکی بابت
ابھی تک بیوفائی بے رخی محسوس ہوتی ہے
لئے پھرتے ہو مٹھی میں مرے خوابوں کی تعبیریں
ستاروں سے پرانی دوستی محسوس ہوتی ہے
وہی فرمان ہے تیرا ،کہا جب مدعا دل کا
“تمہاری گفتگو اک شاعری محسوس ہوتی ہے“
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






