کچھ اشعار
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdمیری آنکھوں سے دیکھے کوئی مرے محبوب کا حسن
اس کی ہر ادا میں قدرت کا رنگ کڑوٹ بدلتا ہے
حثیت وفا کی کتنی ہی ہے
بس تین لفظ کا مجومعہ ہے
اور دغا کے تین لفظ پہ ختم ہوا ہے
اے دل تو نکل کیوں نہیں جاتا مرے سینے سے
کیوں بار بار اس شخص کے ہاتھ مری انا ذلیل کرواتا ہے
کسی پہ محبت کا عروج آیا
مری محبت کا زوال بہت بے مثال آیا
اس سے بچھڑ بھی جاؤں
اس پہ کوئی اثر نہ ہو گا
اس کا دل بہلانے کے لیے زندہ ابھی بہت لوگ ہیں
جیسے جیسے رات بڑھ
رہی ہے
ویسے ویسے تنہائی ڈس
رہی ہے
اے دل سنبھل جا
ابھی ہجر کی راتیں اور بھی ہیں
نگاہوں میں شبنم اتر آئی ہے
خوشبو اس کے در ہو کر آئی ہے
بتا رہی ہے حال اس سنگدل ہرجائی کا
اس کے گھر تو خوشیوں کی بارات سنور آئی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






