تیرے نام دل کا پیغام
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratتمکو سوچوں تو معتبر ہوجاؤ ں
بناؤ ں بالوں کوتیرے نام کا گجرا پہنوں
کاجل لگاؤں تو آنکھوں میں سیاہی جگالوں
تیری دلہن بن جاؤں تو جوڑا پاؤں سہاگ کا
توبن جائے ستارہ روشن میرے بھاگ کا
تن من اپنا واردوں تیری ذات میں اتر جاؤں
ملے جب تو ،تو ہر حد سے گزر جاؤں
کب سے پنہاں ہے تومیرے اندر
میرے مالک نے کب سے تجھے میرے لیے بنایا ہے
نہ میں دیکھوں کوئی اور آیئنہ
تجھے دیکھ کے ہر لمحہ خود کو سنوارہ ہے
مجھکو ملیں محبتیں تیرے پیار کی ہی تو ہیں
تیرا نام بھی جولے لوں
ساری شرماہٹیں تیرے نام کی ہی تو ہیں
مجھکو دیکھا تھا آنکھیں بھر کے جو
خود کو گئے تھے مجھ میں بسا کے جو
میرے ساتھ چلو گے تو جان جاؤ گے
تیر ی کندنی بانہوں میں جہان
آباد رکھ لوں تو جی پاؤں
تیرے نام کی مہندی رچا لوں جو ہاتھوں میں
تو ہر لمحہ تیرے سنگ جی پاؤں
بخت روا رہے میرا
میری پہلی محبت کے مسیحا
چل آ سن میرے دل کا پیغام
جہان بسا ہے تو
اس دھڑکن کا ہراحساس تیرے نام
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






