جو کچھ بھی تھا اس کے پاس یہاں چھوڑ گئی
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinجو کچھ بھی تھا اس کے پاس یہاں چھوڑ گئی
جاتے جاتے بھی وہ ایک اور احساں چھوڑ گئی
کیا خبر تھی کے اسے تاریکیاں کرینگی رخصت
سیاہیِ لیل میں وہ اپنے کئی ارماں چھوڑ گئی
کہاں ہے کیسی ہے کس کے ساتھ ہے وہ اب
غضب ستاتے ہیں کچھ آج کل گماں چھوڑ گئی
مجھے اب اس گھر میں کچھ صاف نظر نہیں آتا
ایک آگ تھی جو ساتھ لے کے دھواں چھوڑ گئی
احساسِ شفقت و غیرتِ نفس کے درمیان وہ
کر کے مجھے پشیماں و پریشاں چھوڑ گئی
ترس گئے گوش و چشم رو و گفتار کو تیرے اب
تو کتنی اذیتوں میں ڈھلا ایک انساں چھوڑ گئی
یہ رونق یوںہی مختصر رونق تھی اس گھر کی
جو گھر تھا ہی ویران اسے ویراں چھوڑ گئی
وہ وسعت نہیں کے یہ چیزیں اب تو سمیٹ لوں
بکھری ہیں وہاں چیزیں وہ جہاں چھوڑ گئی
کچھ تو ویسے ہی زمانے کے گھاو تھے گہرے
کچھ تو کر کے بےحال وہ مہرباں چھوڑ گئی
کب اس کے بچھڑنے کو سودا نے کیا تھا تسلیم
خیال و خواب و وقارِ وہم حیراں چھوڑ گئی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






