دل کا یہ صحرا کبھی اک قریہ شاداب تھا
Poet: قتیلؔ By: Habib Afridi, Dubaiنیند کے گہرے سمندر میں جہاں غرقاب تھا
ایک میں ساحل پہ تھا، سو ماہیِ بے آب تھا
کیا بتاؤں دوستو! اُن کے خیال آنے کا حال
جھلملاتی جھیل میں لرزاں کوئی مہتاب تھا
اُس نے جھٹکا اپنی بھیگی زلف کو اور اُس کے بعد
دور تک پھیلا ہوا سایوں کا اِک سیلاب تھا
سوچتا رہتا ہوں آنکھیں بند کرکے رات دن
میں نے دیکھا جو کھلی آنکھوں وہ کیسا خواب تھا
عمر گزری ساحلوں پر سیپیاں چنتے ہوئے
جس میں گوہر بھی ہو کوئی، وہ صدف نایاب تھا
دور سے ہوتا رہا جس پر ستارے کا گماں
جب قریب آیا تو وہ بھی کرمکِ شبِ تاب تھا
برسرِ محفل سبھی نے پا لیااعزازِ جام
ایک دیوانہ ترا نا واقفِ آداب تھا
میری کشتی کے لئے آغوش پھیلائے ہوئے
یا خدا کی ذات تھی یا حلقہ گرداب تھا
خواب کی مانند مجھ کو یاد آتا ہے قتیلؔ
دل کا یہ صحرا کبھی اک قریہ شاداب تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






