بے قراری
Poet: افضال عاجز By: Bakhtiar Nasir, Lahoreمیں تیرے پاس ہوں مجھ سے نظر ملا تو سہی
ہے مجھ سے دور کیوں اتنا قریب آ تو سہی
ہوا سے اڑتا ہے آنچل تو اس کو اڑنے دے
چپھا کے رکھا ہےکیا کیا ذرا دکھا تو سہی
قرار آیے نہ تجھ کو تو پھر مجھے کہنا
میرے لبوں سے لبوں کو ذرا ملا تو سہی
بکھر کے آ میری باہنوں میں ایک شب کے لئے
تو اپنے آپ سے پردہ کبھی اٹھا تو سہی
میں اپنے پیار سے تجھ کو نہال کر دوں گا
تو میرے پیار کی شدت کو آزما تو سہی
میں سارےدکھ ترے شکوے گلے مٹا دوں گا
تو ایک بار گلے سے مجھے لگا تو سہی
کیا ہے تو نے جو رسوا تو غم نہیں عاجز
کہ تیرے عشق میں ہونا تھا جو ہوا تو سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






