"دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے"
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan
"دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے"
ہم مسکرا رہے ہیں غموں سے نکھار کے
اک خواب سا بسا ہے تری یاد کا نگر
ہم جی رہے ہیں خود کو خیالوں میں مار کے
تجھ سے بچھڑ کے دل کو سکوں مل سکا نہیں
بیٹھے ہیں اپنی روح کو تنہا گزار کے
دن رات ایک تیری تمنا میں جل گئے
ہم رہ گئے ہیں وقت کی صورت سنوار کے
دنیا کے سب ہی رنگ لگے پھیکے اس قدر
جب دیکھ لی ہے صورت تیری ایک بار کے
ہر سمت تیرے نام کی خوشبو بکھر گئی
ہم چل پڑے ہیں راستے خود کو بکھار کے
وشمہ یہ عشق کیا ہے عجب امتحان ہے
جیتے ہیں لوگ خود کو ہی اکثر ہار کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






