دُنیا کی بے ثباتی کا اب کیا سوال ہے

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

دُنیا کی بے ثباتی کا اب کیا سوال ہے
ہر اِک عروج کے لیے آخر زَوال ہے

اَپنے کیے پہ اب تو ہمیں بھی مَلال ہے
توبہ کے دَر پہ جھکُنا ہی اب تو حال ہے

انساں کی کیا حقیقت و کیا اَب مَجال ہے
جس کے لبوں پہ ہر گھڑی بس یہ سَوال ہے

غافل نہ ہو تو وقت کی رَفتار دیکھ کر
نیکی پہ اَجر ہے تو بَدی پر وَبال ہے

کتنے ہی لوگ چھوڑ گئے اِس جہان کو
اَب اُن کی یاد ہی تو ہمارا مَلال ہے

رَہتی یہ زندگی ہے فقط چند روز کی
اِس کی قدر نہ کرنا تو بڑا مُحال ہے

سچے دلوں میں رَب کی محبت کا نور ہو
نیکی کی راہ چلنا ہی اَب تو جَمال ہے

مظہرؔ یہ زندگی ہے امانت خُدا کی اب
اِس کی حفاظت کرنا ہی اَب تو کَمال ہے

Rate it:
Views: 62
07 Jan, 2026
More General Poetry