میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
Poet: تنہاؔ لائلپوری By: Tanha Lyallpuri, Faisalabadفکر و اوہام کا پاتال کھنگالا میں نے
خون پربت کے کلیجے سے نکالا میں نے
تیشۂ دہر دو ہاتھوں میں سنبھالا میں نے
چرخِ بے پیر کو آغوش میں پالا میں نے
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
آئی دریا میں روانی تو روانی مجھ سے
ہے سمندر میں اچھلتا ہوا پانی مجھ سے
سیکھ لی پتھروں نے آگ جلانی مجھ سے
جس نے سننی ہو سنے میری کہانی مجھ سے
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
حرفِ آغاز ہوں میں، صاحبِ اعجاز ہوں میں
آفتِ ناز ہوں میں، شوخیٔ انداز ہوں میں
محرمِ راز ہوں ہم راز کا، خود راز ہوں میں
پہلی آواز ہوں میں، آخری آواز ہوں میں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
کشتیٔ زیست چلاتا رہا طوفانوں میں
نام کندہ ہے مرا خلد کے ایوانوں میں
گونجتی ہے مری آواز کئی کانوں میں
عقل والوں میں ہے چرچا کہیں دیوانوں میں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
کیوں نہ میں چیخ پڑوں اور دو عالم پھٹ جائیں
کیوں نہ تقدیر کے الجھے ہوئے بادل چھٹ جائیں
کیوں نہ بہتے ہوئے اوقات کے دھارے کٹ جائیں
کوہِ سینا پہ لپیٹے ہوئے پردے ہٹ جائیں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
خاکداں ارض و سماوات کا میں چھان چکا
بحث مت کر مرے حق پر، مرا نقصان چکا
اب وہی ہو گا مرے ساتھ جو میں ٹھان چکا
چال اے گردشِ دوراں میں تری جان چکا
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
میں حقیقت ہوں، نہیں ہوں، مجھے الہام نہیں
میں یہاں کام سے آیا ہوں، یہاں کام نہیں
عام ہے قصہ مرا، قصہ مرا عام نہیں
بزم میں نام ہے، تنہاؔ ہوں میں، گمنام نہیں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






