"دیا بھی جو تو کیا دیا" بجھا بجھا سا دل دیا؟
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAجواُن کے روبرو رکھا بجھا بجھا سا دل دیا
وہ مسکرادیے کہا ، بجھا بجھا سا دل دیا؟
ہو ا کا دم اکھاڑ کر ، دیا بھی آخرش بجھا
بلا کا کام کر گیا ، بجھا بجھا سا دل دیا
شعور لینے آگئیں دبی دبی سی خرمنیں
عجب سی روشنی میں تھا ، بجھا بجھا سا دل دیا
لگن کی ہیں کرامتیں یاعشق کا ہے معجزہ
لگی جو لو تو جل اُٹھا بجھا بجھا سادل دیا
وہ جس کی ضد پہ دل دیا اسی لے کے دل کہا
"دیا بھی جو تو کیا دیا" بجھا بجھا سا دل دیا؟
بچی ہے مشکلوں سے بس ہوا کی عزت نفس
ہوا کو بھی رلا گیا ، بجھا بجھا سا دل دیا
اک آتش خیال تھی پے روشنی کمال تھی
جِلا ملی تو پھر جلا ، بجھا بجھا سا دل دیا
ہزار مفتی کاوشیں ، تمام رائگاں گئیں
نہ جل سکا تو رکھ دیا بجھا بجھا سا دل دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






