ہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے

Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USA

روکے عدو کے وار جو خود کو ہی وار کے
جیتا ہوں ہار پیار کے ، میں خود کو ہار کے

تو ہی بتا کہ چھوڑ کے میں عشق کیا کروں
دوچار ہی تو دن ملے ، دنیا میں پیار کے

بیچے ہیں ہاتھ، مرتبہ بیچا نہیں حضور
ہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے

انسانیت کا درس جو دل سے نکال دے
ہیں بوجھ وہ عبادتیں ، سجدے ادھار کے

آتے ہی اسکے آتے ہیں قوس قزح کے رنگ
جاتے ہی اسکے جاتے ہیں موسم بہار کے

بچوں کا میرے دیس کے کچھ ایسا حال ہے
مرجھائے جیسے پھول ہوں اجڑے مزار کے

بے اختیار کب تمہیں بھیجا گیا یہاں
ہم نے تو دن دئے تھے تمہیں اختیار کے

تاعمر عَطر بیز یوں کرکے مرا چمن
لو چل دیا ہے سانس کی مالا اتار کے

کچھ ایسے تیری یاد نے سرشار کردیا
غم جیسے مٹ گئے ہوں سبھی روزگار کے

جی بھر کے ظلم جان پر مفتی کئے مگر
توبہ کے در کُھلے رہے ، پروردگار کے

Rate it:
Views: 244
14 May, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL