"سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا"

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا
ہم پر یہ کسی خواب کا سایہ تو نہیں تھا

دن بھر کی تھکن روح پہ پتھر سی گری تھی
ورنہ ہمیں بستر نے بلایا تو نہیں تھا

ہر شخص بچھڑتے ہوئے خاموش کھڑا تھا
اس شہر میں رونے کا امادہ تو نہیں تھا

اک درد مسلسل تھا رگِ جاں میں اُترتا
یہ زخم کسی ایک کا بخشا تو نہیں تھا

ہم جس کو سمجھتے رہے اپنا ہی مقدر
وہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دنیا تو نہیں تھا

اب تلخئِ حالات نے ایسا ہمیں بدلا
پہلے کبھی لہجہ یہ کڑوا تو نہیں تھا

وشمہ یہ اندھیروں سے محبت بھی عجب ہے
دل ٹوٹ گیا ورنہ اجالا تو نہیں تھا

Rate it:
Views: 21
22 May, 2026
More Love / Romantic Poetry