عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں

Poet: مظہرؔ اقبال گوندل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں
خدا نے دکھایا ہے مجھے وہ ،اُسے دل کی ہر سچائی کہوں

یہ کیسی اُلفت ہے میری، اِسے میں اپنی گہرائی کہوں
کہ جس میں ڈوبا ہوں میں، اُسے میں اپنی بینائی کہوں

وہ میری آنکھوں میں ہے، اِسے میں اپنی بینائی کہوں
جو دل میں پنہاں ہے میرے، اُسے میں اپنی دانائی کہوں

یہ میری قسمت ہے کیسی، اِسے میں اپنی رُسوائی کہوں
کہ ہر اِک لمحہ ہے غم کا، اُسے میں اپنی تنہائی کہوں

نہ کوئی منزل ہے میری، نہ کوئی اَپنی رہنمائی کہوں
بس ایک بھٹکا مُسافر، اٰسے میں اپنی سودائی کہوں

یہ دل کا سودا ہے کیسا، اِسے میں اپنی پُشپایؑ کہوں
کہ جس میں کھویا ہے سب کچھ، اُسے میں اپنی نادایؑ کہوں

مظہرؔ یہ کیسی ہے دنیا، اِسے میں اپنی خدائی کہوں
کہ جس میں سب کچھ ہے فانی، اُسے میں اپنی بے ثبایؑ کہوں

Rate it:
Views: 35
04 May, 2026
More Love / Romantic Poetry