بلا سے اپنے گر اجنبی ہے
Poet: ghani ur rehman anjum By: ghani ur rehman anjum, karachiبلا سے اپنے گر اجنبی ہے
مجھے محبت اسی نے دی ہے
ہمارے جیسا ہی سوچتا ہے
ہمارے جیسا ہی آدمی ہے
جو رستہ روکے کھڑی ہوئی تھی
وہ آج دیوار گر پڑی ہے
یہ شان و شوکت جو دیکھتے ہو
یہ سب دکھاوا ہے ظاہری ہے
کہیں تو ہم کو بھی جا ملے گی
خدا کی دنیا بہت بڑی ہے
جو میں سمجھتا ہوں گفتگو ہے
جو تم سمجھتے ہو شاعری ہے
تمھاری چاہت مرا اثاثہ
تمھاری چاہت ہی زندگی ہے
جو پیار دیتا ہے سب کو انجم
خدا قسم ہے خدا وہی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






