مانا تعبیر کچھ نہیں لیکن
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, Kuala Lampur کیا کہوں اچھی ہوں مزے میں ہوں
جو بھی ہوں تیرے آسرے میں ہوں
مانا تعبیر کچھ نہیں لیکن
اک حسیں کےہی رتجگے میں ہوں
صرف ماں باپ کی دعائیں ملیں
لوگ کہتے ہیں سلسلے میں ہوں
عشق کو اس نے ایسے سمجھایا
آپ بھنورا ہیں اور نشے میں ہوں
اس نے بس اک سوال پوچھا تھا
اے حسن اب بھی دائرے میں ہوں
دین و مسلک ، وفا ، ، خدا ہے عشق
ساری دنیا کو آزمائے میں ہوں
بس خدا کا ہی نام یاد رہے
خواہشوں کی کوئی دعا ئے میں ہوں
خاک چھانی ہے وشمہ دنیا کی
پھر بھی سمجھی مغالطے میں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






