اس کلی آنکھوں میں نیا عکس ابھرتا ہو گا
Poet: UA By: UA, Lahoreاس کی آنکھوں میں نیا عکس ابھرتا ہوگا
اس کی سوچوں میں نیا رنگ بکھرتا ہوگا
نئے خیال اس کے دِل میں بھر رہا ہوگا
کوئی تو اس کو ہم سے دور کر رہا ہو گا
ہم سے دوری کا اسے کوئی اب ملال نہیں
اسکے دِل کو ہمارا جیسے اب خیال نہیں
وہ ہم سے ایسے تو بیزار ہو نہیں سکتا
کوئی تو اس کے خیالوں میں اترتا ہوگا
اس کی آنکھوں میں نیا عکس ابھرتا ہوگا
اس کی سوچوں میں نیا رنگ بکھرتا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






