"محبت کے دھندلکے"

Poet: Saba Hassan By: saba Hassan, Lahore

مجھے ایذاء سی دیتے ھیں
بارھا تکلیفوں میں
زندگی کی پو پھوٹتی رمق سی دیتے ھیں
میں روتی ھوں۔۔۔۔ نہیں روتی
چہک کر قہقہےلگاتی ھوں
میں ھنستی ھوں
نیہں ھنستی۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بھگو جاتی ھوں
کوئی عالم بھی طاری ھو
ذرا بھی مستقل نہیں ھوتا
ھزاروں وسوسے دل میں
سینکڑوں وضاحتیں خود کو
کبھی ھجراں بھی نعمت ھے
کبھی یادوں کے تکیے پہ
گئے موسم کی لڑیاں ھیں
کبھی وصل سے الجھن
کبھی گرہ سانسوں کی روحوں تک
محبت کے دھندلکے مجھے رکنے نہیں دیتے
کوئی پل ھو۔۔۔۔ کوئی ساعت ھو
میں جامد ھی نیہں ھوتی
میرے وجود۔۔۔۔ میرے احساس۔۔۔۔۔ میرے خیالوں کو
تجھ سے ھٹنے نہیں دیتے ھیں
کسی معصوم بچےکے کھلونے سا
تجھ سے چمٹائے رکھتے ھیں
محبت کے دھندلکے
محبت کے سبھی موسم

Rate it:
Views: 619
01 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL