محبّت ہوں میں
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATدیکھو در در کی ٹھکرائی ..... . محبّت ہوں میں
کئی لوگوں کی.. کئی بارآزمائی ...... محبّت ہوں میں
جسموں کا سودا جنوں ہے.... , میں نہیں ہوں ہرگز
مجھے تو پسند ہے پارسائی .... , محبّت ہوں میں
کیا کہا .. وفا حسن کی پیکر .....توبہ توبہ
مجھ نابینا کو معاف کرو بھائی!..محبّت ہوں میں
تم اِسکو.. اُسکو... ہرکسی کو.... بھول چکے ہو
جسنے اب تک نہ کوئی بات بھولائی , محبّت ہوں میں
میرے باغیچوں میں کئی طوفاں آتے ہیں..... یار
میرے درد سے ملی نہ کسی کو رہائی .., محبّت ہوں میں
لے کر تو آتی ہوں میں سبکی زندگی میں رونق
پر دے جاتی ہوں تحفے میں تنہائی .محبّت ہوں میں
میں مجدد ... خوشی کے آنسو.... درد کے کہکہوں کی
لفظوں میں بھرتی ہوں میں گہرائی, محبّت ہوں میں
یوسف ہوں, اکبر, پنو , مجنو, ہو یا رانجھا , مرزا
ہر دور میں. داستان.میں نے بنائی ...,محبّت ہوں میں
گر .. دے دغا اس راہ میں کوئی. کبھی .. کسی کو
میں ںے اس پر مکافات کی چکی چلائی ,محبّت ہوں میں
کبھی دل کسی سے نہ لگانا ..... یہی مشورہ ہے
گر لگاؤ تو نبھانے میں ہے بھلائی , محبّت ہوں میں
میں نازک دلوں میں اکثر.... کرلیتی ہوں بسیرا
سکھاتی ہوں انہیں مقدّر سے لڑائی , محبّت ہوں میں
درد کا سفر ہے شرتِ وفا.....الفت کے مسافر
یوں ملتی نہیں ہوں میں ہرجائی.. محبّت ہوں میں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






