میرا عید کا چاند

Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canada

عید کے چا ند بتا ، تجھکو پتہ ہو شاید
آ تے جا تے کہیں ر ستے میں ملا ہو شاید
کس کے آ نگن میں چمکتا ہے میرا عید کا چاند
کو ن سے شہر میں رہتا ہے میر ا عید کا چاند

تجھکو فرصت ہو تو اِ ک پلَ کے لئے بات کروں
چا ند سے چا ند کے بارے میں سو ا لات کروں

کیا کبھی تو نے یہ دیکھا ہے کہ بس میری طرح
مچلے مچلے ہو ئے جذ با ت کو عر یاں کر کے
کھو ئے کھو ئے سے خیا لات کو حیر ا ں کر کے
شب کے شا نے پہ کبھی زُلف پر یشاں کر کے
کبھی پلکو ں کے منڈ یر ے پہ چرا غا ں کر کے

کیا میر ا ر ا ستہ تکتا ہے میرا عید کا چاند
آ ہ بھر تا ہے ، تڑ پتا ہے میرا عید کا چاند
یا د کر کر کے مچلتا ہے میرا عید کا چاند
بات جھو ٹی ہی سہی ، پھر بھی یہی کہہ مجھ سے
بات کرنے کو ترستا ہے میرا عید کا چاند

سنُ کے رُو داَد میر ی ، چاند نے بس ا تنا کہا
خوش ہے ، مصروف ہے ، اچھا ہے ترا عید کا چاند
تیر ے ا شعار پہ ہنستا ہے تر ا عید کا چاند
 

Rate it:
Views: 545
05 Aug, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL