میں ہر رت میں نغمہ گر رہا
Poet: ہیکل ہاشمی By: Haikal Hashmi, Torontoمیں ہر رت میں نغمہ گر رہا
یہ الگ بات کہ چشم تر رہا
سارے زمانے کے دکھ جھیلنے کے بعد
دنیا نے کہا بڑا دیدہ ور رہا
سیکھا نہ ہم نے دل جیتنے کا فن
اس فن میں تا عمر بے ہنر رہا
شہر آرزو کے اجڑنے کے بعد بھی
پنپتے امید کا کلیجے میں گھر رہا
تو نہیں تیرا پرتو ہی سہی
چاہتوں کے سفر میں شریک سفر رہا
منزلوں کی سرابیں تو بہت ملیں
فقط تیرا نشان راہ ہمیں معتبر رہا
ساری عمر گزار کر یہ پتہ چلا
زندگی بھر ہیکل خود سے بے خبر رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






