ہو جاؤں گا میں کبھی,منظورِ نظر بھی
Poet: Tariq Ali Tariq By: Tariq Ali, Islamabadہو جاؤں گا میں کبھی,منظورِ نظر بھی
بیٹھا ہوں اِسی آس پہ,آؤگے اِدھر بھی
یہ اشکِ محبت ہیں,اِنہیں دل میں سمیٹو
کہتے ہیں بڑے کام کے ہیں,یہ لعلُ و گہر بھی
پھیلی ہوئی اُن آنکھوں میں سمٹاِ ہوں کچھ ایسے
.مدہوش ہووا ایسا نہ رہی اپنی خبر بھی
کہنے کو محبت بھی غینِمت ھے وگرنہ
سنتے ہیں بڑی شے ھے عداوت کی نظر بھی
ہر سایہِ دیوار پہ, دھوکہ تھا اس کا
اس شہر نے دیکھا ہے میرا حُسنِ نظر بھی
یہ نامِ محبت بھی, کیا چیز ھے طارق
ہنستا ہوں تو گرتے ہیں میرے اشکِ جگر بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






