وشمہ کی سوچ قلب کی د ھڑکن کی ابتدا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaہے پاک سر زمیں کا اتنا سا فلسفہ
راہ وفا پہ علم کا ٹوٹے نہ سلسلہ
کلمے کی یہ امین ہے اسلام کی راہ
اس پاک سر زمیں کا محافظ ہے خود خدا
عزم و یقین جزبہ ایمان ولولہ
قایم ہےاس کا دنیا پہ تب ہی تو دبدبہ
موسم خزاں نے جب بھی کیا ذرہ آسماں
مزدور اور کساں نے کیا اس کو گلستاں
وشمہ کی سوچ قلب کی د ھڑکن کی ابتدا
منصوب سر زمیں سے ہے اسلام کی بقا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






