رختِ شب
Poet: محسن نقوی By: yasir Malik, karachiیہ عشق بھی کیا ہے اِسے اپنائے کوئی اور
چاہوں میں کِسی اور کو یاد آئے کوئی اور
اُس شخص کی محفل کبھی بَرپا ہو تو دیکھو
ہو ذِکر کسی اور کا شرمائے کوئی اور
اے ضبطِ اناَ مُجھ کو یہ منظر نہ دِکھانا
دامن ہو کِسی اور کا پھیلائے کوئی اور
سَر نوکِ سناں پر ہے بدن رزقِ زمیں ہے
مقتل سے عَلم میرا اُٹھا لائے کوئی اور
مُجھ پر نہیں کُھلتا میرا سوچا ہوا اِک لفظ
مطلب مُجھے اس لفظ کا سمجھائے کوئی اور
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






