یاد آتا ھے مجھے وہ زمانہ تیرا
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPKیاد آتا ھے مجھے وہ زمانہ تیرا
وہ گلے لگ کر یار مسکرانہ تیرا
دل نہیں بھولا وہ پیار کا ساون
وہ تیز بارش میں ساتھ نہانہ تیرا
کیا؟ تمہیں یاد ھے وہ جھو لا؟؟؟
وہ رسی کو پیڑ سے لٹکانہ تیرا؟
ہم نہیں بھولے کوئی پیار کا لمحہ۔
ہاں وہ چپکے سے چھت پر آنا تیرا۔
وہ ہم سے کہنا کہ پیار ھے تم سے۔
اور پھر وہ نظروں کا جھکانہ تیرا۔۔۔
سینے سے لگنا تیرا جان کر کے۔
اور پھر وہ خود سے شرمانہ تیرا۔
کیسے بھول سکتا ہوں وہ پیار تیرا؟
پیار مین انتہا حد تک وہ جانا تیرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






