پھر کوئی بھی دنیا میں قیامت نہیں دیکھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپھر کوئی بھی دنیا میں قیامت نہیں دیکھی
جب رسمِ محبت میں بغاوت نہیں دیکھی
اک چہرہ جو اب میری بھی آنکھوں میں مکیں ہے
رہتا ہے تصور میں ، شباہت نہیں دیکھی
وہ جھوٹ سجائے ہوئے ہونٹوں پہ ہے سچا
مجھ موردِ الزام کی نیت نہیں دیکھی
قائم ہے جو برسوں سے مرے دل کی زمیں پر
اس امن کی بستی پہ مصیبت نہیں دیکھی
اک لمحہ مسرت کا یہ چاہت کا فسوں تھا
اور دشتِ طلب میں بھی عنایت نہیں دیکھی
وہ میری عبادت کو بھی ٹھکرائے گا اک دن
جب پیار میں سجدوں کی عقیدت نہیں دیکھی
وشمہ میں محبت کے سپاہی پہ ہوں قرباں
جس نے مری دنیا میں قیامت نہیں دیکھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






