پھیلی ہوئی ہے دشت میں یہ داستان دل

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

گزری ہوئی ہواؤں میں جا کر بکھر گیا
دریا میں میرا نام بہا کر اتر گیا

پل پل پھگلتی رات میں جو منتظر رہی
پھر سارے خواب میرے وہ جلا کر گیا

ساحل پہ اک بنا کے گھروندا سا ریت کا
ہر ایک غم کو دل سے لگا کر گزر گیا

کب تک خیال یار کے زندان میں رہوں
میرا تو سب وجود ہلا کر کدھر گیا

پھیلی ہوئی ہے دشت میں یہ داستان دل
اٹھنے لگیں ہیں انگلیاں ہستی پہ گر گیا

کیسے ہو اب یقین کہ وہ لوٹ آئے گا
وعدوں کے خواب مجھ کو دکھا کرد ھر گیا

ہسنے لگے تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے
جیسے کوئی چمکتا ستارہ سنور گیا

گلشن میں ہر طرف ہے قیامت مچی ہوئی
آیا ہے ایک ایسا نظارہ بکھر گیا

صاحب ہمارا پھول سا پیکر عجیب ہے
اس کا پتا نہیں کہ وہ اب تک کدھر گیا

وہ شخص میری سوچ سے بڑھکر گزر گیا
وہ تاحیات اس لئے بھی دربدر گیا

ٓاشعار کی زبان میں وشمہ کو دیکھئے
بے ربط دل کی بہکی ہوئی بات کر گیا

Rate it:
Views: 346
10 Apr, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL