پیار میں کوئی شرطین ھزار رکھتا ھے
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK پیار میں کوئی شرطین ھزار رکھتا ھے۔
اچھاکمبخت دل پر اپنے اعتبار رکھتا ھے۔
غموں کی اپنے یہاں چاندی لگی ھے اور
وہ دل مزید پر اپنے بوجھ بار رکھتا ھے۔
حیف ایسی ضد پر جو کہیں کا نہ چھوڑے۔
خاک ایسے مدے پر جو شرم سار رکھتا ھے۔
اس کی اک جھلککا مشتاق ھے ادھر دل
اور وہ چشم پوشی کیے اختیار رکھتا ھے۔
یوں تو غیروں کی پرواہ نہیں تھی ہم کو۔
مگر کوئی دوست بن کر دغا یار رکھتا ھے۔
کہہ دو زمانے سے کہ بھروسہ رکھے ہم پر۔
بس تھوڑا صبر کر لے اگر اعتبار رکھتا ھے۔
میں کر دوں اس کو یار جدا خود سے ؟
وہ جو زندگی پر میری ہر اختیار رکھتا ھے !۔
کیوں عدو کی بات کو اتنی اھمیت دیتا ھے؟
کیوں کسی انجانے پر اتنا اعتبار رکھتا ھے ؟
لے اب تیرا خدا ہی حافظ ھے ۔
سنا ھے تو دشمن پر سارا انحسار رکھتا ھے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






