اے دل کوئی اور چارہ ڈھونڈھ لے
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK اے دل کوئی اور چارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
ان بن جینے کا سہارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
وہ کسی سورت نہیں اب تیرا۔۔۔
اسکے متبادل کا چہرہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
زند گی آسان نہیں یوں تنہا جینا۔۔۔
کوئی ساتھی ہمدم پیارا ڈھونڈھ لے۔۔۔
نا خدائی کا دم بھرنے والے !!!
ڈوبنے سے بیشتر کنارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
کب تک فرے گا دربدر تو جہان میں۔؟
آشیاں سا کوئی اور سہارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
دیکھ یہیں پڑا ہو گا دل کہیں۔۔۔
ایک بار پھر سے دوبارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
تیرنے والے ہی اکثر ڈوبتے ہیں۔۔۔
تو بھی تنکے کا سہارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
عقل کے اندھون کو پیار ملتا نہیں۔۔۔
دل سے دل کو ھے چارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
زندگی نام ھے جیتے رھنے کا۔۔۔
زندگی سے وابسطہ ہر دھارہ ڈھونڈھ لے۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






