" چہرا تیرا "
Poet: MAZHAR IQBAL GONDAL By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiپھول چمن کے بھی مہک اُٹھے ھیں
تمہارا ذکرِ حال چمن میں جو چھیڑا ھم نے
یہ غزال آنکھیں تیری ، پُر کشش زُلَفیں
تمہارا غور سے جو دیکھا چہرا ھم نے
تِتلیّاں بہک گیؑں ، پھول کھل اُٹھے ھیں
کویؑل بھی گانے لگی جو گُنگُنایا سہرا ھم نے
یاد میں تمہاری سو کے جب اُٹھے ھیں
پہروں جھپکی پلکیں جو دیکھا چہرا ھم نے
ٹوٹا بکھر نہ جاےؑ ، درد دل میں اُٹھے ھیں
بُجھے گی طبیعت ، بدلا جو دیکھا چہرا ھم نے
دل میں چاھت کے چراغ جل اُٹھے ھیں
چھُپائیؑ یہ بات تم سے جو دیکھا چہرا ھم نے
دل کی لگی کو دل سے لگا کے اُٹھے ھیں
نظر کو تیری بچا کے دیکھا چہرا ھم نے
تیرا تصَوّر رُو بہ رُو کر کے اُٹھے ھیں
خُؤنِ دل سے غزل بنی جو دیکھا چہرا ھم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






