کسی آستاں پہ آ کے مرا سر جھکا دیا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکسی آستاں پہ آ کے مرا سر جھکا دیا ہے
یہ کیا مری وفاؤں کا تو نے صلہ دیا ہے
مری زندگی کہیں ہے تری زندگی کہیں ہے
تری یاد کا ہے آنگن ، مرے پیار کا دیا ہے
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست دشمن
رہِ عشق میں وفا نے یہ اچھا صلہ دیا ہے
میں نے مشکلوں سے سیکھا تری خواہشوں سے لڑنا
مری خواہشوں میں تو نے مرا دل جلا دیا ہے
تری داستانِ الفت ہے یہ داستانِ عبرت
"مری بے بسی پہ ہنس کر مرا غم بڑھا دیاہے"
یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کیا
مری سوچ سے بھی بڑھ کر یہ تو نے دغا دیا ہے
تُو بھی اپنے اُس جہاں کے وہاں گیت گا لے وشمہ
یہاں میرے اس چمن میں تو یہ گل کھلا دیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






