کبھی دعا تو کبھی ہم نے التجا کی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستانکبھی دعا تو کبھی ہم نے التجا کی ہے
کسی سے ملنے کی منت تو بارہا کی ہے
مسافروں کے ٹھکانے بدل گئے دل سے
مسافروں سے محبت تو انتہا کی ہے
تمام عمر یہ منصب رہا ہے لوگوں میں
کہ بےوفاؤں سے شام و سحر وفا کی ہے
چلے گئے ہیں ترے شہر سے بہ دیدہء تر
کہ شہر والوں نے ہم جیسوں سے جفا کی ہے
یہ ہجر میرے نصیبوں میں لکھ دیا ہے تو پھر
میں اس پہ خوش ہوں کہ مرضی مرے خدا کی ہے
میں اس لیے بھی اداسی میں زندہ رہتی ہوں
یہ اک نشانی بھی دیرینہ آشنا کی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






