کسی زندہ دلِ انسان کو ہنسنا سکھا دینا
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiکسی زندہ دلِ انسان کو ہنسنا سکھا دینا
جہانِ زیست میں یہ بھی عبادت سے بہتر ہے۔
کسی رنجیدہ دل کو دو گھڑی راحت عطا کر دینا
یہ صدقہ بھی کئی رسمِ عقیدت سے بہتر ہے۔
کسی بے بس کی آنکھوں میں امیدوں کو جگا دینا
یہ فیضانِ محبت ہر سخاوت سے بہتر ہے۔
کسی ٹوٹے ہوئے دل کو ذرا سہلا کے رکھ دینا
یہ اعزازِ مروّت ہر شرافت سے بہتر ہے۔
محبت کی کرن دل کی اندھیری شب میں بھر دینا
چراغِ مہر جلانا ہر عبادت سے بہتر ہے۔
جو زندہ ہیں انہی کے درد کا درماں کیا جائے
یہ خدمت بھی ہزاروں رسمِ الفت سے بہتر ہے۔
کہا مظہر نے اہلِ دل سے یہی آئینِ الفت ہے
کسی کے لب پہ مسکانیں سجانا سب سے بہتر ہے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






