ساگر گجرارے نیناں
Poet: Bina By: Bina, Karachiیہ کالی کالی انکھیاں انکھیاں انکھیاں
پیاری پیاری انکھیاں انکھیاں انکھیاں
ساگر گجرارے نیناں نیناں نیناں
نشیلے ہیرے نیناں نیناں نیناں
ان سے ہم پیار کریں
بےحساب پیار کریں
چاہ کی بات کریں انکھیوں انکھیوں میں
سنگ راتیں گزریں انکھیوں انکھیوں میں
بینا جہاں تڑپائیں وہاں تڑپیں بھی نیناں
پل پل بیتیں کریں انکھیوں انکھیوں میں
ہوجائے من پریشاں سا دل گھبرا جائے ناں
کوئی دیکھے تمھیں ہم سے دیکھا جائے ناں .
ہمارا سنبھلنا مشکل . مشکل دل بھیلانا ہو
ہم خود کو کیسے روکیں سمجھا پائے ناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






