" کیا فرق پڑتا ہے "

Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Karachi

کسی کو جیتو یہ ہارو، کیا فرق پڑتا ہے
چاہے جی بھر کے اُجاڑو، کیا فرق پڑتا ہے

عَکس نمایا نہیں ہو گا کبھی اندھیروں میں
آئینہ جتنا بھی نِکھارو، کیا فرق پڑتا ہے

جاَبجہ آنکھوں سے جَھلکنے لگے اُداسی جب
چہرہ جتنا بھی سنوارو، کیا فرق پڑتا ہے

دل کی فطرت ہے محبت میں مبتلا ہونا
اسکو جتنا بھی سدھارو، کیا فرق پڑتا ہے

جو ہوں منکر وفاؤں کے ہر حوالے سے
ان پہ جی جان بھی وارو، کیا فرق پڑتا ہے

تم ملے ہو اگر یونہی بچھڑنے کیلئے
تو کچھ پَل ساتھ گزارو، کیا فرق پڑتا ہے

ڈھل ہی جائیگا تصور کا رنگ بھی آخر
کسی کو جتنا بھی نِہارو، کیا فرق پڑتا ہے

جو وقت و حالات کی گردش میں کہیِں کہو جائیں
انکو جتنا بھی پکارو، کیا فرق پڑتا ہے

لُٹ گیا ہوں میں سرِ عام سب کے سامنے مگر
دیکھتے جاؤ اے پیاروں، کیا فرق پڑتا ہے

جڑے رہنا ہے سمندر سے اگر ساحل بن کر
تو ڈوب جاؤ اے کناروں، کیا فرق پڑتا ہے

لہو میں شامل ہے آدھورے تعلق کا زہر
اب زندگی جیسے بھی گزارو، کیا فرق پڑتا ہے

اپنی خواہش کا جو خود ہی قاتل ہو حُسینؔ
اسکو مقتل میں اُتارو، کیا فرق پڑتا ہے

Rate it:
Views: 525
03 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL