کیوں کسی کے پیار میں غم اٹھایئے

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK

 کیوں کسی کے پیار میں غم اٹھایئے
کیوں کسی کی یاد میں آنسو بھایئے

کیوں کسی کے واسطے رویئے زار زار؟
کیوں کسی کے بچھڑنے پر ماتم منایئے؟

کیوں کسی کے رنج میں ہوئیے مبتلا؟
کیوں کسی کے واسطے دکھ اٹھائیے؟

کیوں کسی کو پیار میں شدت سے چاھئیے؟
کیوں کسی کی خاطر اپنی جان گنوائیے؟

کیوں کسی کے نام کا ورد کی جیئے؟
کیوں کسی کے ذکر سے محفل سجائیے؟

کیوں کسی کی ہر بات کو اھمیت دیجیئے؟
کیوں کسی کو اتنا اپنے سر چڑھائیے؟

کیوں کسی کو یاد کیجیئے شب بھر؟
کیوں کسی کی یاد کی شمع جلائیے؟

کیوں کسی کا انتظار کیجیئے صبح شام؟
کیوں کسی کے آنے کی امید بندھائیے؟

کیوں کسی کے عشق میں ہو جائیے فنا؟
کیوں کسی کیخاطر خود سولی چڑھائیے؟

Rate it:
Views: 985
14 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL