آئو مل کر روئیں دل کے آزار کو

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK

 آئو مل کر روئیں دل کے آزار کو
بارہا سے بہترھے روئیں ایکبار کو

آئو آہیں سسکیاں بھریں غم ہجر میں۔
اور کانوں کان خبر نہ ہو درودیوار کو۔

یاد ہیں وہ لمحے جو باہم بتائے تھے؟
ایک دوجے کے ساتھ کبھی پہلی بار کو

آہ نجانے کسطرح تو بھول گیا سب کچھ؟
پیار میں کیے عہد وفا قول و قرار کو ؟

یہ دل نہیں بھولا تمہیں یار کسی سورت۔
وہ تیری گلی کے چکر کاٹنا بار بار کو۔

دل کی بیقراری کا اب کیا کہوں تجھسے؟
ناداں تجھکو دیکھنا چاھتا ھے ایک بار کو۔

آہ یہ جدائی کے پل کاٹوں کس طرح؟
خدا غارت کرے اس کٹھن انتظار کو۔

اسد نا مرادی کے دن طویل اس قدر؟؟؟
بھاڑ میں جائے دنیا آگ لگے سنسار کو۔

Rate it:
Views: 726
15 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL