اِک راز بتا کے پھر جانا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaاک راز بتا کے پھر جانا
مجھے گلے لگا کے پھر جانا
تجھے کس نے مجھ سے چھین لیا
وہ نام بتا کے پھر جانا
اگر آ ہی گئے ہو رُک جاؤ
اب پیاس بجھا کے پھر جانا
مجبویوں کی کوئی داستان
کوئی قصہ سُنا کے پھر جانا
دل کے ارمانوں کی راکھ کو
گنگا میں بہا کے پھر جانا
تجھے جانے سے نہ روکوں گا
پر وجہ بتا کے پھر جانا
رہو پاس میرے اِس پل کو تم
میری جان دفنا کے پھر جانا
دل پاگل خود کشی کر لے گا
میرا دل سمجھا کے پھر جانا
میرا تنہا جینا اب ممکن نہیں
پردہ سا گِرا کے پھر جانا
اے آدم الہیٰ کچھ پوچھے گا
نیک عمل کما کے پھر جانا
ہم مہمان نواز ہے سُن لو تم
اب کھاناکھا کے پھر جانا
اگر آئے ہو میری لہد پے
اِک شمع جلا کے پھر جانا
تُم آؤ گے نہ یادوں میں
یہ بات لکھا کے پھر جانا
نہال آخر پے قسم ہے تجھکو
نامِ یار بتا کے پھر جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






