ہاتھ کی لکیر میں اُُُُسکا تو نشان نہ تھا
Poet: Haboor By: Haboor, ShahKot میں نے جسے چاہا وہ اتنا تو نایاب نہ تھا
اپنی آرزؤں کا شباب تو پہلے سے سیراب نہ تھا
اپنے تو خیال سے سب کچھ ہمیں مل جاتا
پر نصیبوں کی کہانی میں ایسا کچھ حساب نہ تھا
کیسے سمجھاؤں دل کو کہ بھول جائے پرانی باتیں
جو تجھے نہ مل سکا وہ تیرا نصیب نہ تھا
بے وجہ سا دکھ نہ جانے دل میں چھبتا ھے کیوں؟
اپنی زندگی میں پہلے تو یہ سوال نہ تھا
الفاظ کی تہوں میں کئی درد چھپائے ھوں
درد دل کا کیا کروں: جو نہ ھوتا تو کمال نہ تھا؟
بے وجہ کی الفت میں اپنا من جلائے ھوں
میرے ہاتھ کی لکیروں میں اُسکا تو نشان نہ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






